غزل-15 کیا، اُس نے مجھے، گھائل، اُسے خبر بھی نہیں

January 22, 2021
Gazal
30 0

Poet: Tanveer Iqbal

کیا، اُس نے مجھے، گھائل، اُسے خبر بھی نہیں
میں ہوا، اُسکا، بسمل، اسے خبر بھی نہیں
 
آ گئی، اُس کے مقابل، زیست کی ہر رونق
اُس نے، لوٹی، ہر محفل، اُسے خبر بھی نہیں
 
میں تھا، گمنام و، نااہلِ مدح، مجھے اُس نے
کیا، پہچان کا، حامل، اُسے خبر بھی نہیں
 
مرے تنہا تھے, مسلسل, روز وشب، پھر وہ
ہوگیا, مجھ میں, شامل، اُسے خبر بھی نہیں
 
سب حسرتوں کے, تلاطم،، ناامیدی کے ابر
اُسکی, باعث, ہوئے زائل، اُسے خبر بھی نہیں
 
میں تھا، ناخواندہ، سخن وری، تھی ناممکن
کیا, اُس نے مجھے, قابل، اُسے خبر بھی نہیں
 
جستجو کا سفر، تکمیل، پا گیا اُس پر
ہوا، اُس سے, سب حاصل، اُسے خبر بھی نہیں
 
سب پردے، راز و نیاز کے، ہمارے بیچ
ہٹ گئے, جو تھے, حائل، اُسے خبر بھی نہیں
 
ہیں فقط، عشق و جنوں، منزلِ مقصود کی راہ
کیا، اُس نے مجھے، قائل، اُسے خبر بھی نہیں
 
کر کے، برپا مرے، سارے تغیرات میں حشر
ہے مرا، محسن، غافل، اُسے خبر بھی نہیں
 
دھو ڈالے، اسکی الفت نے مرے روح و بدن
وہ، نفسِ تار کا، قاتل، اُسے خبر بھی نہیں
 
ایک دم، جوڑ دیے، ذات کے، سارے ٹکڑے
کر گیا، وہ مجھے، کامل، اُسے خبر بھی نہیں
 
تنویر اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open chat
1
Hello,
How can I help you?