غزل-14 جان کر بھی لوگ انجان بنے پھرتے ہیں

January 22, 2021
Gazal
34 0

Poet: Tanveer Iqbal

جان کر بھی لوگ انجان بنے پھرتے ہیں
اپنی بربادی کا سامان بنے پھرتے ہیں
 
حبس شائد کسی طوفاں کا پیش خیمہ ہے
آج دشمن جو مہربان بنے پھرتے ہیں
 
شرم نہ آئی کبھی ہاتھ پھیلانے میں جنہیں
کیا عجب ہے وہ سلطان بنے پھرتے ہیں
 
مسجدوں میں ڈھونگ کرتے ہیں پارسائی کا
پھر نکلتے ہی شیطان بنے پھرتے ہیں
 
داڑھیاں رکھتے ہیں سنت میں اِنسِ کامل کی
مگر اعمال میں حیوان بنے پھرتے ہیں
 
قتل و غارت سے اڑا کر امن کی دھجیاں
قاتل محافظِ ایمان بنے پھرتے ہیں
 
رکھتے ہیں زبان پر غلاضتوں کے ڈھیر
قاری و حافظِ قرآن بنے پھرتے ہیں
 
دوسروں پر کفر کی مہر لگا کر پھر وہ
آپ سرکاری مسلمان بنے پھرتے ہیں
 
پار کرکے ظلمتوں کی حدیں، دنیا بھر میں
بربریت کا وہ نشان بنے پھرتے ہیں
 
رات آئے تو غنیمت، کل بھلے ہو نہ ہو
غمِ دم میں یوں پریشان بنے پھرتے ہیں
 
خاک سے خاک کی خاکی کو لوٹنے والے
آج ملت کے نگہبان بنے پھرتے ہیں
 
چمن سے کہتے ہیں مرجھاتے ہوئے غنچہ و گل
ہیں راہزن جو باغبان بنے پھرتے ہیں
 
بے جا جہاد سے بہا کے خون کے دریا
خودکش و وحشی انسان بنے پھرتے ہیں
 
طیش اکسا کر ناموسِ احمد پر پھر
ہر کسی کی وبالِ جان بنے پھرتے ہیں
 
حبِ وطنی و اطاعت کے دعوے کر کے
وہ باغی و نافرمان بنے پھرتے ہیں
 
عوام کو دھمکاتے ہیں غضبِ خدا سے
خود مثلِ قہرِ یزدان بنے پھرتے ہیں
 
تنویرکچھ تو ملا عشق میں اجڑنے پر
کہ آج ہم بھی قلمدان بنے پھرتے ہیں
 
تنویر اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open chat
1
Hello,
How can I help you?