غزل-11 تجھ پہ قربان کیے تھے دل و جگر پھر بھی

January 10, 2021
Gazal
33 0

Poet: Tanveer Iqbal

تجھ پہ قربان کیے تھے دل و جگر پھر بھی

تو نے مگر نہ کی جذبات کی قدر پھر بھی

دل کے درودیوار تیرے رنگ میں رنگے تھے

اجاڑ تو نے دیا خواہشوں کا گھر پھر بھی

تری آمد شبِ تنہائی میں اک حسرت تھی

امید کی شمع جلائی تا سحَر پھر بھی

ذندگی میں بہت سے موسم آئے اور گئے

سدا نظر میں رکھے ترے منظر پھر بھی

ایک کے بعد ایک منزل آئی مگر ہم

تری تلاش میں رہے محوِ سفر پھر بھی

دل کا گھر لٹتا رہا ترے جانے کے بعد

ہم نے کبھی نہ بند کیا اپنا در پھر بھی

گنوا دیے گردشِ دوراں نے ہوش و حواس

بھلا دیا گردشِ دوراں نے سارا کچھ

یاد ہم نے تجھے کیا پر اکثر پھر بھی

خشک ہوتے ہی نہیں بہتی آنکھوں کے بحر

ہم کتنے پی چکے اشکوں کے ساگر پھر بھی

چن رہے تھےتیری راہ کے کانٹے، توہمیں

مار ٹھوکر کر گیا دھولِ گزر پھر بھی

رکھے تھے تری امان اپنے سب جذبات

جگر میں گاڑھ دیا تو نے خنجر پھر بھی

اب ان بے اثر سسکیوں سے کیا حاصل تنویر

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

تنویر اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open chat
1
Hello,
How can I help you?