غزل-1 کچھ نئے شعر کہوں، کوئی رباعی لکھوں

December 9, 2020
Gazal
39 0

Poet: Tanveer Iqbal

کچھ نئے شعر کہوں، کوئی رباعی لکھوں

نہ قلمبند ہوئی ایسی لکھائی لکھوں

میں نئے زاویوں سے پرکھوں سارے جذبے

دل کی گہری سے گہری گہرائی لکھوں

رد کر کے ظاہر و خُفیہ سب خوف و شک

میں اپنی ذات کی پھر ہر سچائی لکھوں

ہجر میں مر مٹنے کے تو قصے ہیں بہت

خود شناسا کیا جس نے وہ جدائی لکھوں

ٹھوکروں نے ہی سکھلائے ہیں آدابِ سفر

وجہِ فرحت بنی ہر آبلہ پائی لکھوں

جانے کتنی مرتبہ جیتا، کتنا ہارا

ہر رسائی لکھوں اور نارسائی لکھوں

یاد کرکے سمجھوتے، سارے پچھتاوے

دلِ شکستہ کی کیا کیا دُہائی لکھوں

جانچ کر حالیہ گزشتہ رشتے ناطے

ہر وفا لکھوں اور ہر بے وفائی لکھوں

کائناتیں کروں مشاہدہ اندر باہر

پھر خالق کی بے مثال خدائی لکھوں

باپ کیسے ہوا قربان مری پرورش کو

ماں نے ہر سانس کسطرح جاں لٹائی لکھوں

ہے مرا آئینہ، لباس اور شریکِ حیات

ہر عنایت اُسکی اور ہمنوائی لکھوں

اک نیا دور ہوا جاری لطف و جشن کا

اولاد کیا کیا خوشیاں سنگ لائی لکھوں

رہی ہنگاموں میں صَرف گِرد کی دنیا

کیا تماشے اور کیا کیا تماشائی لکھوں

کی کیا کچھ نہ تگ و دو بقاءِ جاں کے لیے

کہاں کہاں پھر قسمت آزمائی لکھوں

جہاں نباہ رہا واں دغا بھی ساتھ رہا

ہر خوش نمائی اور ہر بدنمائی لکھوں

کرکے اذیتیں شمار سخت موسموں کی

ہر دلربا رُت کی ہر دلربائی لکھوں

اپنوں نے ہی نہیں کی حوصلہ افزائی

غیروں سے جو ملی وہ پذیرائی لکھوں

قسمت میں جو نہیں تھا اسے پانے کے لیے

رہی بے سُود جو وہ ہر کاروائی لکھوں

تپتی دھوپ میں کن صحراؤں میں بھٹکا

کب کب اور کہاں تھی پرچھائی لکھوں

رکھ سکا ہوں جانے  کتنی قسموں کا بھرم

جو نبھائی لکھوں جو نہ نبھائی لکھوں

تمام عمر کا خلاصہ لکھ کر تنویر

ہر شے جو بھی، کھوئی اور پائی لکھوں

تنویر اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Open chat
1
Hello,
How can I help you?